ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہادیہ لوجہاد معاملہ؛ سپریم کورٹ کا سوال ، کیا ایسا کوئی قانون ہے کہ بالغ لڑکی کسی مجرم سے پیار یا شادی نہیں کرسکتی ؟

ہادیہ لوجہاد معاملہ؛ سپریم کورٹ کا سوال ، کیا ایسا کوئی قانون ہے کہ بالغ لڑکی کسی مجرم سے پیار یا شادی نہیں کرسکتی ؟

Mon, 30 Oct 2017 15:23:00    S.O. News Service

نئی دہلی 30/ اکتوبر (ایس او نیوز/ ایجنسی): سپریم کورٹ نے کیرالہ میں ہندو لڑکی اور مسلم لڑکے کے نکاح کے معاملے میں بے مثال فیصلہ سناتے ہوئے  هاديہ عرف اكھیلا اشوكن کو 27 نومبر کو عدالت میں پیش کرنے کو کہا ہے۔ چیف جسٹس جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے ایم كھانولكر اور جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی بنچ نے مسلم نوجوان شیفین جہاں کی عرضی پر سماعت کے دوران لڑکی کے والد اور کیس کے مدعا علیہ کے ایم اشوكن کو حکم دیا کہ وہ 27 نومبر کو اگلی سماعت کے دوران لڑکی اكھیلا اشوكن عرف هاديہ (تبدیلی مذہب کے بعد کانام) کو پیش کریں۔

سماعت کے دوران عدالت نے تبصرہ کیا کہ لڑکی بالغ ہے اور اس معاملے میں اس کا موقف بھی جاننا ضروری ہے۔لہذا، عدالت ہادیہ کے موقف کو بھی کھلی عدالت میں سنناچاہتی ہے۔  سپریم کورٹ نے ہادیہ کے والد کو ہدایت کی کہ سماعت کی اگلی تاریخ کو وہ اپنی بیٹی کو اس کے سامنے پیش کریں تاکہ وہ اپنا موقف  عدالت کے سامنے رکھ سکے۔ بینچ نے سماعت کے دوران قومی تحقیقاتی ایجنسی کی بھی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کوئی قانون کسی لڑکی کو کسی مجرم سے محبت کرنے سے نہیں روک سکتا۔ اگر لڑکی بالغ ہے تو صرف اس کی رضامندی ہی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ اکھیلا اشوکن نے مذہب تبدیل کرلیا تھا اور اس نے اپنا نام  بدل کر ہادیہ رکھا تھا نیز ہادیہ نے مسلم نوجوان شیفین جہاں سے اپنی مرضی سے نکاح کر لیا تھا۔ اس کے والد کے ایم اشوکن نے کیرالہ ہائی کورٹ میں اس نکاح کو چیلنج کیا تھا ، جس کے بعد ہائی کورٹ نے نکاح کو منسوخ کردیا تھا۔ شیفین نے ہائی کورٹ کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے معاملہ کی تحقیقات کے لئے این آئی اے کو حکم دیا ہے۔


Share: